فَانطَلَقَا حَتّٰۤى اِذَا رَكِبَا فِىۡ السَّفِيۡنَةِ خَرَقَهَاؕ قَالَ اَخَرَقۡتَهَا لِتُغۡرِقَ اَهۡلَهَاۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيْئًا اِمۡرًا
پس دونوں چل دیئے یہاں تک کہ جب دونوں کشتی میں سوار ہوئے (تو خضر علیہ السلام نے) اس (کشتی) میں شگاف کر دیا، موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: کیا آپ نے اسے اس لئے (شگاف کر کے) پھاڑ ڈالا ہے کہ آپ کشتی والوں کو غرق کردیں، بیشک آپ نے بڑی عجیب بات کی